وسـوســه 1 = امام ابوحنیفہ کی اتباع بہتر هے یا محمد رسول الله کی ؟
جواب =
آج کل کچھ
مسلمان دوسرے مسلمانوں سے ایک سوال
پوچھتے ہیں ۔
آپ حضرت محمدصلی
اللہ علیہ وسلم کے دین پر چلتے ہیں یا امام ابو
حنیفہؒ(یا امام شافعی ؒ ،/امام مالک ؒ /امام احمؒد /)
کے دین پر
فوراجواب ملتا
ہے: یقیناً حضرت محمد ؐ کے دین پر۔
اس پر ایک دوسرا سوال پوچھا جاتا ہے : پھر آپ اپنے کو حنفی کیوں کہتے ہیں؟
ایک عام مسلمان جو علم نہیں رکھتا اس سوال سے پریشان ہو
جاتا ہے ۔اسکا فائدہ اٹھا کر اس کے دماغ میں شکوک و شبہات پیدا کیئے جاتے ہیں ۔
اوپر دیئے گئے سوالوں کا استعمال کرکے ایک سوچی سمجھی حکمتِ
عملی کے تحت یہ غلط تصور عوام میں پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگر آپ
حنفی ہیں تو آپ امام ابو حنیفہ کے دین پر عمل کر رہے ہیں ،نہ کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر۔
یہ ایک خطرناک غلطی ہے ۔امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ، امام مالک ، امام احمد ؒ نے
اپنا کوئی دین ایجاد نہیں کیا بلکہ انہوں
نے مضبوطی کے ساتھ ایک اور صرف ایک دین –اسلام پر عمل کیا جسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے تھے ،اس لیئے ان کے
ماننے والے سب ایک ہی دین پر عمل کر رہے ہیں اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا
دین ہے ۔
یہ وسوسہ ایک عام آدمی کو بڑا خوشنما معلوم هوتا هے ، لیکن دراصل یہ وسوسہ بالکل باطل و فاسد هے ، کیونکہ امام ابوحنیفہ رحمہ الله اور محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا تقابل کرنا هی غلط هے ، بلکہ نبی کا مقابلہ امتی سے کرنا یہ توهین و تنقیص هے ، بلکہ اصل سوال یہ هے کہ کیا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع امام ابوحنیفہ رحمہ الله ( اور دیگر ائمہ اسلام ) کی راهنمائ میں بہترهے یا اپنے نفس کی خواهشات اور
آج کل کے نام نہاد جاهل شیوخ کی اتباع میں بہترهے ؟
لہذا هم کہتے هیں کہ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت واتباع امام ابوحنیفہ تابعی رحمہ الله ( اور دیگر ائمہ مجتهدین ) کی اتباع وراهنمائ میں کرنا ضروری هے ، اور اسی پرتمام اهل سنت عوام وخواص سلف وخلف کا اجماع و اتفاق هے ،
لیکن بدقسمتی سے هندوستان میں انگریزی دور میں ایک جدید فرقہ پیدا کیا گیا جس نے بڑے زور وشور سے یہ نعره لگانا شروع کیا کہ دین میں ان ائمہ مجتهدین خصوصا امام ابوحنیفہ تابعی رحمہ الله کی اتباع و راهنمائ ناجائز و شرک هے ،
لہذا ایک عام آدمی کو ان ائمہ اسلام کی اتباع و راهنمائ سے نکال کر ان جہلاء نے اپنی اور نفس و شیطان کی اتباع میں لگا دیا ، اور هر کس وناکس کو دین میں آزاد کر دیا اور نفسانی وشیطانی خواهشات پرعمل میں لگا دیا ، اور
وه حقیقی اهل علم جن کے بارے قرآن نے کہا ( فاسئلوا اهل الذکران کنتم لا تعلمون ) عوام الناس کو ان کی اتباع سے نکال کر ان جاهل لوگوں کی اتباع میں لگا دیا جن کے بارے حضور صلی الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ( فأفتوا
بغیرعلم فضلوا وأضلوا ) اور ان جہلاء کی تقلید واتباع کا صراط مستقیم رکهہ دیا ، اور عام لوگوں کو قرآن وسنت کے نام پر اپنی طرف بلاتے هیں، لیکن درحقیقت عام لوگوں کو چند جہلاء کی اندهی تقلید واتباع میں ڈال دیا جاتا هے
فإلى الله المشتكى وهوالمستعان
No comments:
Post a Comment